2 Comforts for Those Discouraged with Prayer (Urdu)

It’s probably the case that there’s hardly any Christian who hasn’t been discouraged with their prayer life.

دعا سے مایوس ہونے والوں کے لئےدو تقویتی عمل

مصنف: ڈاکٹر کیون ڈی ینگ

مترجم: ارسلان الحق

ضابطہ اور مشق

شاید ہی کوئی مسیحی ہو جسے اپنی دعائیہ زندگی میں کبھی مایوسی نہ ہوئی ہو۔بہت بار میرے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ میں چاہتا تھا کہ میری دعا بہتر ہوتی یا میری دعا ئیہ زندگی زیادہ بھرپور محسوس ہوتی یا میں اس میں زیادہ مستقل مزاج ہوتا۔آپ اکیلے نہیں ہیں۔کلیسیائی تاریخ میں بہت سے لوگوں نے خواہش کی ہے کہ وہ بہتر طور سے دعا کرسکیں۔

درحقیقت، شاید یہ ان وجوہ میں سے ایک ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ ہم دعا کریں کیونکہ دعا کرنا ہمیں عاجزی سکھاتا ہے۔اور ہم کبھی کبھار ہچکچاہٹ کے ساتھ دعا کرتے ہیں۔اگر آپ واقعی اپنی دعائیہ زندگی کے بارے میں حوصلہ شکنی محسوس کر رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ یہ ایک ضابطہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم صبح اٹھیں اور دعا کرنے کے لئے بے حد پرجوش ہوں، یہی وجہ ہے کہ اسے روحانی نظم وضبط کہا جاتا ہے۔ جس کے لئے ایک ارادے کی ضرورت ہوتی ہے۔

چونکہ یہ ایک ضابطہ ہےجس کا مطلب ہے کہ بعض اوقات یہ زیادہ محسوس نہیں ہوتا۔دوڑنے یا ورزش کرنے کی عادت کو لے لیں۔آپ اکثر بستر سے نکل کر ہمیشہ یہ نہیں چاہتے کہ آپ اسے کریں لیکن آپ اسے جاری رکھتے ہیں۔حالانکہ ہر دن یا سرگرمی زیادہ محسوس نہیں ہوتی لیکن اِس کا ایک مجموعی اثر ہوتا ہے کہ آپ ترقی کر رہے ہوتے ہیں۔دعا کا معاملہ بھی اِسی طرح کا ہے۔ آپ ان روحانی عضلات کو بڑھا رہے ہیں اور ان کی مشق کر رہے ہیں اور خدا آپ کو تبدیل کر رہا ہے، اکثر ناقابل فہم طور پر ،بھلے ہی ایسا محسوس نہ ہو۔

لہذا اِسے جاری رکھیں۔اکثر اوقات، آپ کو لگے گا کہ آج دعا کا وقت بہت اچھا گزرا اور کبھی یہ احساس ختم ہو جائے گا۔ لیکن آپ اس کے نظم و ضبط کو برقرار رکھیں۔خدا اس کی قدرکرتا ہے اور اس سے خوش ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہماری دعائیں بعض اوقات کمزور ہو سکتی ہیں لیکن یسوع کی وجہ سے، وہ پھر بھی ہماری سنتا ہے۔


Leave a Comment