The will of God is one of the most confusing concepts in the Christian life. Part of this confusion stems from the fact that the Bible talks about God’s will in at least two different ways.
خدا کی مرضی کو قبول کرنا
مصنف: ڈاکٹر کیون ڈی ینگ
مترجم: ارسلان الحق
پولس رسول کا تھسلنیکیوں کے نام پہلا خط (چوتھا باب تیسری آیت) بہت واضح اور صاف ہے۔چنانچہ خدا کی مرضی یہ ہے کہ تم پاک بنو ۔
اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی کے لئے خدا کی مرضی کیا ہےتو یہ بالکل واضح ہے۔ ایک ایسی زندگی گزاریں جو خدا کو پسند یدہ ہو (پہلی آیت)۔ حرام کاری سے بچے رہیں (تیسری آیت)۔ خدا کا بندہ پاکیزگی اور عزت کےساتھ اپنے ظرف کو حاصل کرنا جانے (چوتھی آیت)۔ کسی بھائی یا بہن کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں (چھٹی آیت)۔آپ کو خدا کی مرضی کو درست طریقے سے یا اُس کے خصوصی پیغامات کو سمجھنے کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم سب خدا کے بلاوے کو جان سکتے ہیں۔اِس لئے کہ خدا نے ہم کو ناپاکی کے لئے نہیں بلکہ پاکیزگی کے لئے بلایا (ساتویں آیت)۔
خدا کی مرضی مسیحی زندگی کے سب سےپیچیدہ تصورات میں سے ایک ہے۔اِس اُلجھن کا ایک حصہ اِس حقیقت سے ہے کہ بائبل مقدس خدا کی مرضی کے بارے میں کم از کم دو مختلف طریقوں سے بات کرتی ہے۔
کچھ حوالہ جات خدا کی مرضی کو متعین اور واجب التعمیل بیان کرتےہیں۔ہم اِس کو تقدیری ارادہ کہہ سکتے ہیں۔ خدا اپنے ارادہ کے موافق اپنی مرضی کی مصلحت سے سب کچھ کرتا ہے (افسیوں 11:1)۔ خداجو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے اور کوئی نہیں جو اُس کا ہاتھ روک سکے (دانی ایل 35:4)۔ خدا کےازلی ارادہ میں نیکی (افسیوں 10:2)، بدی (اعمال 23:2 اور 28:4، پیدایش 20:50) ، ہم کہاں رہتےہیں (اعمال 26:17) اور ہماری عمر کی معیاد کیا ہے (ایوب 5:14، زبور 4:39) شامل ہیں۔ نہ تو آسمان میں پرندے اور نہ ہی ہمارے سر کے بال ہمارے آسمانی باپ کی مرضی کے بغیر زمین پر گرتے ہیں (متی 28:10-30)۔
دیگر حوالہ جات میں خدا کی مرضی کوکچھ اِس طرح سے بیان کیا گیا ہے جس کی ہم اطاعت یا نافرمانی کر سکتے ہیں۔ ہم اِس کو خدا کا حکمی ارادہ (پسندیدہ مرضی)کہہ سکتے ہیں۔ مشیت الٰہی دو نہیں ہیں لیکن بائبل مقدس ایک ہی زبان کا دو مختلف طریقوں سے استعمال کرتی ہے۔ مثلاً 1 یوحنا 15:2-17 میں جسم کی خواہش، آنکھوں کی خواہش اور مال و دولت کی شیخی خدا کی مرضی کے متضاد ہے۔ اِسی طرح، یسوع سکھاتا ہے کہ آسمان کی بادشاہی میں وہی داخل ہوگا جو میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلتا ہے (متی 21:7)۔ ایسے حوالہ جات میں، خدا کی مرضی سے مراد وہ طرزِحیات ہے جس طرح خدا چاہتا ہے کہ ہم زندگی بسرکریں ۔
معاملات کو مزید پیچیدہ بنانے کے لئے،جب مسیحی خدا کی مرضی جاننے کے بارے میں بات کرتے ہیں تو وہ عموماً خدا کی مرضی کی رہنمائی کے ایک پر اسرار پہلو کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں۔ تاہم، بائبل مقدس اِس طرح سے خدا کی مرضی کے بارے میں بات نہیں کرتی ۔جی ہاں، خدا کے پاس ہماری زندگیوں کے لئے ایک مخصوص منصوبہ ہے (زبور 16:139)، لیکن اِس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ عموماً وہ اِس منصوبے کو وقت سے پہلے ہم پرظاہر کرنا چاہتا ہے۔ اِس کے بجائے، وہ چاہتا ہے کہ ہم اُس پر اعتماد کریں۔ ہمیں مستقبل کو جاننے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم اُس خدا سےتعلق رکھتے ہیں جو نہ صرف مستقبل کو جانتا ہے بلکہ اُس پر مکمل اقتدار بھی رکھتا ہے۔
خدا کی مرضی کو قبول کرناکچھ مبہم باطنی تاثرات کے ذریعے یہ جاننے کا عمل نہیں ہے کہ کہاں رہنا ہے، کس سے شادی کرنی ہے اور کون سا کام کرنا ہے۔بلکہ، اِس سے کہیں زیادہ یہ عام اورآخرالامر ازحداہم اورزیادہ روحانی کام ہے، پہلے خدا کی بادشاہی اور اُس کی راست بازی کی تلاش کرنا، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ جو کچھ بھی آپ کوفی الحقیقت درکار ہے، آپ کے لئے مہیا کیا جائے گا (متی 33:6 )۔